ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ساحلی اضلاع میں 9مہینوں کے تعطل کے بعد کھل گئے اسکول۔ احتیاطی تدابیر کا کیا گیا ہےپورا اہتمام۔ طلبہ کی حاضری اطمینان بخش

ساحلی اضلاع میں 9مہینوں کے تعطل کے بعد کھل گئے اسکول۔ احتیاطی تدابیر کا کیا گیا ہےپورا اہتمام۔ طلبہ کی حاضری اطمینان بخش

Sat, 02 Jan 2021 12:55:07    S.O. News Service

بھٹکل،2؍جنوری (ایس او نیوز) کورونا وباء کے  پس منظر میں تقریباً9مہینوں کےتعطل کے بعد بالآخر اسکول اور پی یو کالج طلبہ کے لئے یکم جنوری 2021سے کھل  گئے ہیں۔  طلبہ کو خوش آمدید کہنے کے لئے مختلف مقامات پر اسکولوں کو مختلف اور دلکش انداز میں سجایا سنوارا گیا تھا۔

اگرکاروار ۔سرسی تعلیمی ضلع کی   بات کی جائے تو یہاں پر اس تعلیمی سال کے پہلے دن   اسکولوں میں 66فیصد اور کالجوں میں 44فیصد حاضری رہی۔ریاستی حکومت کی طرف سے جاری ہدایات کے تحت اسکولوں کے لئے ’ودیاگما‘ پروگرام شروع کیا گیا ہے۔ اس  لئے چھٹویں سے نوویں جماعت تک طلبہ نے بڑی تعداد میں  اسکولوں میں حاضری دی۔چونکہ ابھی طلبہ کے ہاسٹلس نہیں کھلے ہیں اس وجہ سے بعض طلبہ کے لئے  کلاسوں میں حاضر رہنا ممکن نہیں ہوسکا۔

اسکولوں میں کوویڈ پروٹوکول کا پورا ہتمام کرتے ہوئے ایک دوسرے کے درمیان فاصلہ بنائے رکھنا، کلاسوں میں داخلے سے پہلے جسمانی حرارت جانچنا، ماسک پہننا، سینی ٹائزر کا استعمال وغیر ہ لازمی قرار دیا گیا ہے۔کلاسس کا آغاز کرنے سےدو د ن قبل  اساتذہ کی کووڈ جانچ بھی کروائی گئی ۔ ان کے لئے بھی ماسک پہننا اور ہاتھوں پر دستانے پہننا لازمی کردیا گیا ہے۔

 بھٹکل میں اسکول شروع ہونے کے پہلے دن امدادی، غیر امدادی اور سرکاری اسکولوں کی چھٹویں ، نوویں اور دسویں جماعتوں میں طلبہ کی حاضری اطمینان بخش رہی۔ دسویں جماعت کے کُل 1066اور نوویں جماعت کے 633طلبہ حاضر رہے۔ ہاسٹل بند رہنے کی وجہ سے بھٹکل تعلقہ کے دسویں جماعت کے 85طلبہ کو مایوس ہونا پڑا۔ چھٹویں جماعت کے طلبہ بھی خاصی تعداد میں اسکول پہنچے تھے ۔ کچھ طلبہ نے اسکول میں حاضر ہونے کے بجائے گھر پر ہی رہ کر آن لائن کلاس سے تعلیم حاصل کرنے کو ترجیح دی۔ توقع کی جارہی ہے کہ دو چار دنوں بعد اسکولوں میں حاضر ہونے والے طلبہ کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا۔

جنوبی کینرا سے ملنے والی رپورٹ کے مطابق وہاں پربھی  ہائی اسکولوں اور کالجوں میں طلبہ بڑی تعداد میں حاضر ہوئے۔البتہ چھٹویں اور نوویں جماعت میں طلبہ کی تعدا د توقع سے کچھ کم نظر آئی۔ضلع کے مختلف مقامات پر نجی اسکولوں کے مقابلے میں سرکاری اسکولوں کے اندر طلبہ کی حاضری بہت زیادہ رہی۔ برہماور میں ایک ٹیچر اورہیبری کے منیال میں ایک کلرک کی کوویڈ رپورٹ پوزیٹیو آنے کی وجہ سے مسئلہ پیدا ہوگیا تھا۔ بلاک ایجوکیشن آفیسر نے بتایا کہ برہماور کے ٹیچر کا کسی اور ٹیچر یا اسٹاف سے رابطہ نہیں ہواتھا اس لئے وہ اسکول کھول دیا گیا  ہےمگر  منیال اسکول کلرک کا رابطہ دوسرے ٹیچروں سےہونے کی بات سامنے آنے کے بعد یکم جنوری سے اس اسکول میں پڑھائی شروع نہیں کی گئی ہے۔طلبہ اور اساتذہ دونوں ہی طرف سے سیکھنے سکھانے کا عمل بڑے جوش و خروش کے ساتھ انجام دیا جارہا ہے۔

اڈپی ضلع میں امسال تعلیمی ادارے کھلنے کے پہلےدن پی یو سی میں طلبہ کی حاضری 60.80فیصد رہی ، جبکہ ایس ایس ایل سی اور ودیا گما کلاسوں میں 49.43فیصد حاضری دیکھنے کو ملی ۔اڈپی ضلع کے کچھ مقامات پر طلبہ کو جلوس کی شکل میں بینڈ باجے کے ساتھ اسکول میں لےجایا گیا۔کچھ جگہوں پر اساتذہ نے تالیاں بجاکر طلبہ کا استقبال کیا۔ہر جگہ کوویڈ پروٹوکول کا پورا خیال رکھا گیا۔کورونا وائرس کے تعلق سے بچوں کے اندر بیداری لانے کی بھی کوششیں کی گئیں۔


Share: